ہر کھیت ہر مکان مشینوں سے بھر گیا




ہر کھیت ہر مکان مشینوں سے بھر گیا
گاؤں بھی تارکول کی سڑکوں سے بھر گیا
پیاسی ہوا نے ہاتھ لگایا تھا اور پھر
مشکیزہ میرا ریت کے ذروں سے بھر گیا
اُس دن شجر کا ذکر ہوا تھا ہمارے گھر
اُس دن ہمارا صحن پرندوں سے بھر گیا
اک دوست کو بتایا کہ آتی نہیں ہے نیند
وہ میری خواب گاہ کتابوں سے بھر گیا
جمِ غفیر سامنے دیکھا تو یک بیک
لشکر سفید رنگ کے جھنڈوں سے بھر گیا





Comments