کون جانے کہ تھا کتنا دلِ مردود میں عشق



یک بَیَک چھین لیا حجرہءِ مسجود میں عشق
کون جانے کہ تھا کتنا دلِ مردود میں عشق
خوردبینی ہے کہ سیماب مزاجی میری
ڈھونڈ لیتا ہوں میں بچوں کی اچھل کود میں عشق
کتنی آنکھیں نظر آتی ہیں دھواں ہوتی ہوئیں
جب چمکتا ہے کسی چشمِ نم آلود میں عشق
گزرے وقتوں میں جہاں پر تھا وہیں رہنا ہے
دیکھ کس نہج پہ ہے لمحہءِ موجود میں عشق
قحط پھولوں کا پڑا شہر میں جس دم سالِف
"بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق"





Comments