پتوں کے سبز رنگ میں پھولوں کی باس میں



پتوں کے سبز رنگ میں پھولوں کی باس میں
ہم مر کے پھر ملیں گے پھلوں کی مٹھاس میں
ایسی شدید دھوپ کہ رقصاں تھے راستے
سورج کے نیچے آ رکے سائے کی آس میں
اس کا حسین رنگ بدلتا ہے کتنے رنگ
بھرتا ہے کتنے رنگ پسینہ کپاس میں
نیلا تھا آسمان سا دریا میں اس کا رنگ
بے رنگ آ کے ہو گیا پانی گلاس میں
بچپن کی بارشین نہ ہوئیں بعد ازاں کبھی
کاغذ کی کشتی چل نہ سکی سبز گھاس میں
فطرت کے ہوگا عین مطابق اگر کبھی
دریا دکھائی دینے لگے دشت پیاس میں





Comments