شہر سے جانے کے اسباب رقم کرتے ہیں



شہر سے جانے کے اسباب رقم کرتے ہیں
اس کی دیوار پہ کچھ خواب رقم کرتے ہیں
اس کہانی سے ہٹاتے ہیں جلے خیموں کو
آؤ ہم ایک نیا باب رقم کرتے ہیں
اے ہوا ٹھہر ذرا آج ترے ماتھے پر
پھر کوئی بوسہءِ بیتاب رقم کرتے ہیں
اک بھنور سا وہ تہہِ آب چلا جاتا ہے
ہم ترا نام سرِ آب رقم کرتے ہیں
اک تاثر مرے الفاظ سے بنتا ہے اور
اک تاثر مرے اعصاب رقم کرتے ہیں





Comments