روداد صبا لے کے جو گلزار میں آوے




روداد صبا لے کے جو گلزار میں آوے
بہتر ہے کسی لمحہءِ بیکار میں آوے
مضبوط چٹانوں میں جو ٹوٹا نہیں ہم سے
اے کاش وہ پتھر کسی دیوار میں آوے
شرما کے یونہی گھٹتی نہ رہ جائے وہ اندر
کچھ دیر یہاں صحنِ ہوادار میں آوے
ہر قصے میں ہو سکتی نہیں چشمِ زلیخا
اس بار وہ کچھ سوچ کے بازار میں آوے
آنگن کے ہر اک پیڑ سے اڑ جائیں پرندے
قبل اس کے مکاں چشمِ خریدار میں آوے
غلبہ ہے مری ذات پہ اس لفظ کا سالِف
"جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے"

(غالب کی زمین میں)





Comments