دور ہونا ہی تھا لیکن وہ بہت دور ہوا



دور ہونا ہی تھا لیکن وہ بہت دور ہوا
ہوا افسر وہ جہاں میں وہیں مزدور ہوا
ہم نے دیوار سے کچھ اور ہی باتیں کی تھیں
گھر کے افراد میں کچھ اور ہی مشہور ہوا
بعض اوقات میں بندوں کا ہوا شکر گزار
بعض اوقات خدا خود مِرا مشکور ہوا
بے سبب لاتا تجھے شعر میں اے عشق مگر
میں کبھی اتنا نہ لاچار نہ مجبور ہوا
آئے دن جس کے خلاف آگ اگلتا رہتا
ایک دن میں بھی اسی کام پہ مامور ہوا
میں نے سورج کی طرف سیکھ لیا ڈوبتے وقت
جلد ہونا تھا مگر دیر سے بے نور ہوا





Comments