جہاں جہاں بھی ہوا ظلم سب کی بات کریں




عراق و دیبل و مصر و عرب کی بات کریں
جہاں جہاں بھی ہوا ظلم سب کی بات کریں
کچھ ایسے لوگ جو دِھیمے سُروں میں سوچتے ہیں
عجب نہیں جو کریں تو غضب کی بات کریں
قلیل وقت ہے، کرنے کو سینکڑوں باتیں
کہاں کا ذکر کریں اور کب کی بات کریں
کچھ اختلاف کی صورت نکلنے والی ہے
تو کیوں نہ آج کسی اور ڈھب کی بات کریں
یہ لوگ پھر بھی ہمیں بے ادب ہی جانتے ہیں
ہزار شعر سنائیں، ادب کی بات کریں
عصا و نیل سے، کہسار و تیشہ سے ہمیں کیا
کسی کی پیاس، کسی جاں بلب کی بات کریں





Comments