چراغان _ دماغاں خانقاہ _ دل سے ہو آیئں




چراغان _ دماغاں خانقاہ _ دل سے ہو آیئں 
سفر در پیش ہے تو نقشہ ~ منزل سے ہو آیئں

اسی گرداب کے اندر ہمارا رزق چلتا ہے 
کوئی واپس نہ آنے دے اگر ساحل سے ہو آیئں

سمے نے ایک دم دیوار _ ماضی درمیاں رکھ دی 
وہ مجھ سے کہ رہی تھی آؤ مستقبل سے ہو آیئں

مگر زخم _ گلو کیوں سانس لینے میں معاون ہے 
چلو اک بار کویے قاتل _ کامل سے ہو آیئں

شرار و باد کو تہذیب _ نظم و ضبط لازم ہے 
مرا تو مشورہ ہے جایئں آب و گل سے ہو آییں

صدا سے قریہ ~ خالی کہیں گالی نہ بن جایے 
سخی خود جایئں اور دروازہ ~ سائل سے ہو آیئں

یقینن شہر میں گوشہ نشینی عام ہو جایے 
اگر ہنگامہ گر درویش کی محفل سے ہو آییں

خدا تک آنے جانے کے کئی آسان رستے ہیں
اگر مشکل سے ہو آنا ہے تو مشکل سے ہو آیئں

بھلے منّت نہ مانیں خواب ہایے بے ثمر شاہد 
مری مانیں تو بس درگاہ _ لا حاصل سے ہو آیئں






Comments