وقت ھنستا ھوا گزرا مری نادانی پر



وقت ھنستا ھوا گزرا مری نادانی پر
میں کہ مامور تھا منظر کی نگہبانی پر

تو مری پیاس خریدے گا ھنسی آتی ھے
میں تو لعنت بھی نہ بھیجوں گا ترے پانی پر

کاش خوشبو کو یہاں پھر سے بسا سکتا میں
ترس آتا ھے مجھے پھول کی ویرانی پر

اپنے ھمزاد میں اک طُرفہ کشش ھوتی ھے
اُڑ کے اتی ھے پریشانی ، پریشانی پر

قیمتیں گرتی ھین معیار کے گر جانے سے
مجھ کو حیرت نہیں انسان کی ارزانی پر

کٹ گئے قفل و قفس آخری ھچکی کے ساتھ
رحم آ ھی گیا زندان کو زندانی پر

لو چراغوں کی جو بکتی ھوئی دیکھی میں نے
رات حیران ھوئی تھی مری حیرانی پر

یہ وہ نعمت کہ جو تاروں کے مقدر میں نہیں
داغ لگتا ھے فقط چاند کی پیشانی پر

زندگی کو ملی پوشاک ـ محبت شاھد
جس طرح تیرگی کر دے کوئی عُریانی پر






Comments