دوزخ پڑا ہوا کہیں جنّت پڑی ہوئی



دوزخ پڑا ہوا کہیں جنّت پڑی ہوئی
دونوں کے درمیاں مری میّت پڑی ہوئی

ورنہ شب_ سیہ میں نکلتا ہے گھر سے کون
طوفان کو ہے کوئ مصیبت پڑی ہوئی

میزان کا جھکاؤ کسی بھی طرف نہیں
الجھن میں ہے خدا کی مشیت پڑی ہوئی

اب رائگاں پگھلتی ہے اس تیز دھوپ میں
اک شمع _ گل شدہ سر _ تربت پڑی ہوئی

صحرا سے پوچھتا ہوں تری چیز تو نہیں
مجھ کو ملی ہے راہ میں وحشت پڑی ہوئی

بارش کو روکتا ہے فلک اور نہ دھوپ کو
سر پر براۓ نام ہے یہ چھت پڑی ہوئی

شاید مرا دماغ تری بات مان لے
دل کو مگر ہے خوۓ بغاوت پڑی ہوئی

بھونچال ہے کہ وہم کہ میرے علاوہ ہے
گھر میں ہر ایک چیز سلامت پڑی ہوئی

تصویر ، حس نے مجھ کو سکھائی تھی گفتگو
صندوق میں ہے لاش کی صورت پڑی ہوئی

شاہد زمیں پہ ذائقہ پہلا ہوا کا تھا
گھّٹی میں اس لیے ہے مسافت پڑی ہوئی






Comments