بچھڑ گیا تھا کوئی خواب _ دلنشیں مجھ سے



بچھڑ گیا تھا کوئی خواب _ دلنشیں مجھ سے 
بہت دنوں مری آنکھیں جدا رہیں مجھ سے

میں سانس تک نہیں لیتا پرائ خوشبو میں 
جھجھک رہی ہے یونہی شاخ _ یاسمیں مجھ سے

مرے گناہ کی مجھ کو سزا نہیں دیتا 
مرا خدا کہیں ناراض تو نہیں مجھ سے

یہ شاہکار کسی ضد کا شاخسانہ ہے 
الجھ رہا تھا بہت نقش _ اولین مجھ سے

میں تخت پر ہوں مگر ہوں تو خاک زادہ ہی 
گریز کرتے ہیں کیوں بوریا نشین مجھ سے

اجڑ اجڑ کے بسے ہیں مرے در و دیوار 
بچھڑ بچھڑ کے ملے ہیں مرے مکیں مجھ سے

بکھر رہی ہے تپ _ انتقام سے مری خاک 
گزر رہی ہے کوئی موج _ آتشیں مجھ سے

محال ہے کہ تماشا تمام ہو شاہد 
تماش بیں سے میں خوش ہوں تماش بین مجھ سے






Comments