بجائے باد ِ مناسب اُمس میں رکھا گیا



بجائے باد ِ مناسب اُمس میں رکھا گیا 
مرے چراغ کو لو کی ہوس میں رکھا گیا

ثمر یقیں کا غم ِ پیش و پس میں رکھا گیا
وہ یوں کہ نشہ ء تشکیک رس میں رکھا گیا

پڑے پڑے مرا رخت ِ سفر خراب ھوا 
مجھے فریب ِ پیام ِ جرس میں رکھا گیا

جنوں لپیٹ کے سجدے میں اور بوسے میں
سکوں سمیٹ کے مٹی کے مَس میں رکھا گیا

مرے دروں کہ بروں تھی نہیں کھلی وہ آگ
عجب دھواں مری موج ِ نفس میں رکھا گیا

مرا ھوا بھی میں زندہ دکھائی دیتا تھا 
بندھا ھوا بھی میں کُنج ِ قفس میں رکھا گیا

میں دست کش رھا یوں بھی دعائے خالی سے 
کہ یہ ھنر کس و ناکس کے بس میں رکھا گیا

وہ جیسے میں تھا مری رشتہ داریوں کے بیچ 
گلاب نوچ کے یوں خار و خس میں رکھا گیا

بہ رزم گہ مری آنکھیں نکال کر شاھد
چراغ ِ تیغ مری دسترس میں رکھا گیا






Comments