فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا



فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا
ہَوا میں دھول تھی میں نے ہَوا سے کچھ نہ کہا
یہی خیال کہ برسے تو خود برس جائے
سو عمر بھر کسی کالی گھٹا سے کچھ نہ کہا
ہزار خواب تھے آنکھوں میں لالہ زاروں کے
مِلی سڑک پہ تو بادِ صبا سے کچھ نہ کہا
وہ راستوں کو سجاتے رہے انھوں نے کبھی
گھروں میں ناچنے والی بَلا سے کچھ نہ کہا
وہ لمحہ جیسے خدا کے بغیر بِیت گیا
اُسے گزار کے میں نے خدا سے کچھ نہ کہا
شبوں میں تجھ سے رہی میری گفتگو کیا کیا
دِنوں میں چاند ترے نقشِ پا سے کچھ نہ کہا





مصنف کے بارے میں


...

رئیس فروغ

15-2-1926 - 5-8-1982 | کراچی پاکستان


رئیس فروغ 15 فروری، 1926ء کو مرادآباد، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م سید محمد یونس حسن تھا۔ ابتدائی زمانے میں انہوں نے قمر مراد آبادی کی شاگردی اختیار کی جو مراد آباد کے اہم شاعر شمار ہوتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور پہلے ٹھٹہ اور پھر کراچی میں سکونت اختیار کی۔ انہوں نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ملازمت کے بزم ادب کے پی ٹی کی بنیاد ڈالی اور اس کے ادبی مجلے صدف کے مدیر بھی رہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کا مجموعہ ہم سورج چاند ستارے کے نام سے اور نثری نظموں اور غزلیات کا مجموعہ رات بہت ہوا چلی کے نام سے اشاعت پزیر ہوا۔




Comments