دنیا کا وبال بھی رہے گا



دنیا کا وبال بھی رہے گا

کچھ اپنا خیال بھی رہے گا

شعلوں سے تجھے گزار دیں گے

ہم سے یہ کمال بھی رہے گا

بانہوں میں سمٹ کے حسن تیرا

کچھ دیر نڈھال بھی رہے گا

اے جان تجھے خراب کر کے

تھوڑا سا ملال بھی رہے گا

مجھ کو تری نازکی کا احساس

دوران وصال بھی رہے گا






مصنف کے بارے میں


...

رئیس فروغ

1926 - 1982 |


نئی غزل کے اہم ترین پاکستانی شاعروں میں نمایاں




Comments