اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر



اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر

ہم لوگ برے لوگ ہیں ہم سے نہ ملا کر

شاید کسی آواز کی خوشبو نظر آئے

آنکھیں ہیں تو خوابوں کی تمنا بھی کیا کر

باتوں کے لیے شکوۂ موسم ہی بہت ہے

کچھ اور کسی سے نہ کہا کر نہ سنا کر

سونے دے انہیں رنگ جو سوئے ہیں بدن میں

آوارہ ہواؤں کو نہ محسوس کیا کر

تو صبح بہاراں کا حسیں خواب ہے پھر بھی

آہستہ ذرا اوس کی بوندوں پہ چلا کر






مصنف کے بارے میں


...

رئیس فروغ

1926 - 1982 |


نئی غزل کے اہم ترین پاکستانی شاعروں میں نمایاں




Comments