ہم سے ملے نہ آپ تو ہم بھی نہ مر گئے



ہم سے ملے نہ آپ تو ہم بھی نہ مر گئے 
کہنے کو رہ گیا یہ سخن دن گزر گئے 

کہتے ہیں خوش دلی ہے جہاں میں یہ سب غلط 
رنج و تعب ہی ہم نے تو دیکھا جدھر گئے 

بھٹکا پھروں ہوں یاں میں اکیلا ہی ہر ایک سمت 
اے ہمرہانِ پیش  قدم تم کدھر گئے 

روئے گی کب تک اے مثرۃ اشک بار  بس 
اب کیا مجھے ڈبوئے گی جل تھل تو بھر گئے 

قائم خدا کے واسطے مت گل رخوں سے مل 
اس چہچہے میں یار ہزاروں کے گھر گئے 





مصنف کے بارے میں


...

قائم چاند پوری

۱۷۲۱ - ۱۷۹۳ | چاند پور


دلی کے آشوب میں اُن کا سلسلہ ملازمت منقطع ہوا تو وہ آنولہ ، امروہہ ، بریلی ، بسولی ،اور لکھنو میں مہاجروں کی طرح پھرتے رہے ، آخر چاند پور آ کر دم لیا ، قائم کی شہرت کو دو چیزوں نے زیادہ متاثر کیا ، ایک سودا کا شاگرد ہونا اور دوسرے خود ان کے شاگردوں کا نہ ہونا ۔




Comments