ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیں



ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیں 
ہم اس بہروپ کو پہچانتے ہیں 

ہے قادر تو خدا لیکن بتاں بھی 
وہ کر چکتے ہیں جو کچھ ٹھانتے ہیں 

تُو ناصح مان یا مت مان لیکن 
تری باتیں کوئی ہم مانتے ہیں 

گئے گوہر کے تاجر جس طرف سے 
ہم اُن رستوں کی مٹی چھانتے ہیں 

بہت جاگے ہم اس محفل میں قائم 
کوئی دم اب تو چادر تانتے ہیں 





مصنف کے بارے میں


...

قائم چاند پوری

۱۷۲۱ - ۱۷۹۳ | چاند پور


دلی کے آشوب میں اُن کا سلسلہ ملازمت منقطع ہوا تو وہ آنولہ ، امروہہ ، بریلی ، بسولی ،اور لکھنو میں مہاجروں کی طرح پھرتے رہے ، آخر چاند پور آ کر دم لیا ، قائم کی شہرت کو دو چیزوں نے زیادہ متاثر کیا ، ایک سودا کا شاگرد ہونا اور دوسرے خود ان کے شاگردوں کا نہ ہونا ۔




Comments