نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں



نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں 
کبھو تھے روئے سو خوں جم رہا ہے آنکھوں میں 

میں مر چکا ہوں پہ تیرے ہی دیکھنے کے لیے 
حباب وار تنک دم رہا ہے آنکھوں میں 

موافقت کی بہت شہریوں سے میں لیکن 
وہی غزال ابھی رم رہا ہے آنکھوں میں 

وہ محو ہوں کہ مثالِ حباب آئینہ 
جگر سے اشک نکل تھم رہا ہے آنکھوں میں 

بسانِ اشک ہے قائم تُو جب سے آوارہ 
وقار تب سے ترا کم رہا ہے آنکھوں میں  






مصنف کے بارے میں


...

قائم چاند پوری

۱۷۲۱ - ۱۷۹۳ | چاند پور


دلی کے آشوب میں اُن کا سلسلہ ملازمت منقطع ہوا تو وہ آنولہ ، امروہہ ، بریلی ، بسولی ،اور لکھنو میں مہاجروں کی طرح پھرتے رہے ، آخر چاند پور آ کر دم لیا ، قائم کی شہرت کو دو چیزوں نے زیادہ متاثر کیا ، ایک سودا کا شاگرد ہونا اور دوسرے خود ان کے شاگردوں کا نہ ہونا ۔




Comments