مَیں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا



مَیں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا 
پر آشنا کوئی دیکھا نہ مہرباں دیکھا 

ہمیشہ منع تو کرتا تھا باغ سے ہم کو 
کچھ حال اب گُل و گلشن کا باغ باں دیکھا ؟ 

نہ جانے کون سی  ساعت چمن سے بچھٹرے تھے 
کہ آنکھ بھر کے نہ پھر سوئے گلستاں دیکھا 

سنے کو دیکھے پہ ہم کس طرح سے دیں  ترجیح 
خدا تو ہم نے سنا ہے،  تمھیں بتاں دیکھا 

یہ رنگ غنچہ بہار اس چمن کی سنتے تھے 
پہ جوں ہی آنکھ کھلی موسمِ خزاں دیکھا 

نہ کہتے تھے تجھے قائم کہ دل کسی کو نہ دے 
مزا کچھ اس کا بھلا تُو نے اے میاں،  دیکھا 








مصنف کے بارے میں


...

قائم چاند پوری

۱۷۲۱ - ۱۷۹۳ | چاند پور


دلی کے آشوب میں اُن کا سلسلہ ملازمت منقطع ہوا تو وہ آنولہ ، امروہہ ، بریلی ، بسولی ،اور لکھنو میں مہاجروں کی طرح پھرتے رہے ، آخر چاند پور آ کر دم لیا ، قائم کی شہرت کو دو چیزوں نے زیادہ متاثر کیا ، ایک سودا کا شاگرد ہونا اور دوسرے خود ان کے شاگردوں کا نہ ہونا ۔




Comments