عہدے سے تیرے ہم کو بر آیا نہ جائے گا



عہدے سے تیرے ہم کو بر آیا نہ جائے گا 
یہ ناز ہے تو ہم سے اُٹھایا نہ جائے گا 

دل کو نہ صرفِ گریہ کر اے چشمِ اشکبار 
ایسا رفیق ڈھونڈے بھی پایا نہ جائے گا 

ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ ؟ 
کچھ قصرِ دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا 

ہوتے ترے محال ہے ہم درمیاں نہ ہوں 
جب تک وجودِ شخص ہے سایا نہ جائے گا 

پھیرے ہی دو ہو دل کو تو اتنا سمجھ رکھو 
گر پھر طلب کرو گے تو لایا نہ جائے گا 





مصنف کے بارے میں


...

قائم چاند پوری

۱۷۲۱ - ۱۷۹۳ | چاند پور


دلی کے آشوب میں اُن کا سلسلہ ملازمت منقطع ہوا تو وہ آنولہ ، امروہہ ، بریلی ، بسولی ،اور لکھنو میں مہاجروں کی طرح پھرتے رہے ، آخر چاند پور آ کر دم لیا ، قائم کی شہرت کو دو چیزوں نے زیادہ متاثر کیا ، ایک سودا کا شاگرد ہونا اور دوسرے خود ان کے شاگردوں کا نہ ہونا ۔




Comments