دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا



دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا 
صدقے میں کچھ تو بول تو کیا تجھ پہ حال تھا 

چھوٹا ترا مریض اگر مر گیا کہ شوخ 
جو دم تھا زندگی کا سو اس پر وبال تھا 

ناخن ترے کی مہندی سے تنہا نہیں ہیں داغ 
چندے شفق سے نعل در آتش ہلال تھا 

اس سوچ سے کھلی ہے حقیقت کہ ایک عمر 
مکھی کی فرج و شیخ کی داڑھی کا بال تھا 

کو چشم فہم تاکہ نظر آئے یہ کہ یاں 
دیکھا جو کچھ سو خواب جو سمجھا خیال تھا 

جھگڑا مرا کیا ہی نہ تیں صاف ورنہ شوخ 
ذرہ زباں پہ تیغ کی یہ انفصال تھا 

قائمؔ میں ریختہ کو دیا خلعت قبول 
ورنہ یہ پیش اہل ہنر کیا کمال تھا 






مصنف کے بارے میں


...

قائم چاند پوری

۱۷۲۱ - ۱۷۹۳ | چاند پور


دلی کے آشوب میں اُن کا سلسلہ ملازمت منقطع ہوا تو وہ آنولہ ، امروہہ ، بریلی ، بسولی ،اور لکھنو میں مہاجروں کی طرح پھرتے رہے ، آخر چاند پور آ کر دم لیا ، قائم کی شہرت کو دو چیزوں نے زیادہ متاثر کیا ، ایک سودا کا شاگرد ہونا اور دوسرے خود ان کے شاگردوں کا نہ ہونا ۔




Comments