درویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیا



دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا 
درویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیا 

جھگڑے میں ہم جہاں کے یہاں تک پھنسے کہ آہ 
مقصود تھا جو اپنے تئیں کام رہ گیا 

ناپختگی کا اپنے سبب اس ثمر سے پوچھ 
جلدی سے باغ بان کے جو خام رہ گیا 

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند 
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا 

قائم گئے سب اس کی زباں سے جو تھے رفیق 
اک بے حیا میں کھانے کو دشنام رہ گیا 





مصنف کے بارے میں


...

قائم چاند پوری

۱۷۲۱ - ۱۷۹۳ | چاند پور


دلی کے آشوب میں اُن کا سلسلہ ملازمت منقطع ہوا تو وہ آنولہ ، امروہہ ، بریلی ، بسولی ،اور لکھنو میں مہاجروں کی طرح پھرتے رہے ، آخر چاند پور آ کر دم لیا ، قائم کی شہرت کو دو چیزوں نے زیادہ متاثر کیا ، ایک سودا کا شاگرد ہونا اور دوسرے خود ان کے شاگردوں کا نہ ہونا ۔




Comments