جیسے کہسار قامت میں لاوا اگلنے سے اور بڑھ گیا



جیسے کہسار قامت میں لاوا اگلنے سے اور بڑھ گیا
ویسے ہی آنکھ کا نم مرا دل پگھلنے سے اور بڑھ گیا

آگ لگتے کہیں سے ہوا چل پڑی ،راکھ اُڑنے لگی
کیا تماشا ہوا میرا سامان جلنے سے اور بڑھ گیا

عمر کٹتی چلی آ رہی تھی کہ ہم سے ملا ایک دن
پُر خطر راہ میں ایک خطرہ جو ٹلنے سے اور بڑھ گیا

خشک پتے پتاور میں پھیلے ہوئے ماتمی تھے کوئی
جن کا نوحہ گزرتے ہوئوں کے مسلنے سے اور بڑھ گیا

ہاتھ ملنے سے میں حادثہ تو نہیں روک پایا بجا
ہاں مگر اسکا صدمہ مرے ہاتھ ملنے اور بڑھ گیا





Comments