کسی کے کہنے پہ کاغذ جلا دیے گئے ہیں



بہت  سے نام تھے دل سے مٹا  دیے گئے ہیں 
کسی  کے  کہنے  پہ  کاغذ  جلا دیے گئے ہیں  

ذرا سا روک کے رکھا ہوا ہے اشکوں کو 
کہیں کہیں پہ جزیرے بنا دیے گئے ہیں 

میں کس عذاب سے گزرا ہوں کون جانے گا 
لطیفے نام سے میرے چلا دیے گئے ہیں

کہو اگر تو یہ دل بھی بجھائے دیتے ہیں 
چراغ جتنے تھے سارے بجھا دیے گئے ہیں 

اب اس کے بعد غلامی ہے، خوف ہے، ڈر ہے
ہماری سوچ پہ پہرے بٹھا دیے گئے ہیں 

فلک  سے  کون  ستاروں کو  توڑ  کر  لائے
یہ اشک بزم میں ان کی سجا دیے گئے ہیں

سنا ہے عید منائی گئی ہے پہلی بار 
سنا  ہے  آج  کہیں  دل  ملا  دیے گئے ہیں

مبشر متین





مصنف کے بارے میں


...

مبشر متین

1993 - | Lahore


مبشر متین 1993 گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہوۓ۔2014 میں شعر گوئی شروع کی۔جامعہ دار العلوم الاسلامیہ اقبال ٹاؤن لاہور سے تجوید،قراتِ سبعہ عشرہ اور درسِ نظامی کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور اب اورینٹل کالج لاہور سے ایم فل اردو کر رہے ہیں۔




Comments