کام کوئی بھی ڈھنگ سے ہوا تک نہیں



کام کوئی بھی ڈھنگ سے ہوا تک نہیں 
عشق  کرنے   چلا   تھا  چلا  تک نہیں 

فاصلہ صرف دو گز کا تھا بیچ میں  
عمر  کٹتی  گئی  گز  کٹا  تک  نہیں 

اس کی آنکھیں جھکی کی جھکی رہ گئیں 
اور میں نے بھی کچھ بھی کہا تک نہیں 

اس کو جانے دیا اس کو روکا نہیں 
اور وہ بھی تھا ایسا مڑا تک نہیں 

بوجھ آنکھوں پہ پڑتے ہی نیند اڑ گئی 
خواب کوئی بھی پورا ہوا تک نہیں 
  
مبشر متین





مصنف کے بارے میں


...

مبشر متین

1993 - | Lahore


مبشر متین 1993 گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہوۓ۔2014 میں شعر گوئی شروع کی۔جامعہ دار العلوم الاسلامیہ اقبال ٹاؤن لاہور سے تجوید،قراتِ سبعہ عشرہ اور درسِ نظامی کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور اب اورینٹل کالج لاہور سے ایم فل اردو کر رہے ہیں۔




Comments