پھر آنکھوں میں اور زیادہ پلتے ہیں



پھر آنکھوں میں اور  زیادہ پلتے ہیں 
 خواب  تمہارے  ٹالنے سے  کب  ٹلتے  ہیں 

کتنے غم   ہیں  بہہ  جاتے  ہیں اشکوں میں 
اور کتنے ہیں جو شعروں میں ڈھلتے ہیں 

اس کا جانا  شاید کوئی  خواب  ہی  ہو 
بس یہ سوچ کہ پیہم  آنکھیں ملتے ہیں 

دو پنچھی جب باہم مل کر بیٹھیں تو 
 میرے جیسے دیکھتے ہیں اور جلتے ہیں 

انشاءاللّه  پھر  دوبارہ  آئیں   گے 
کام ہے تھوڑا اچھا اب ہم چلتے ہیں 

مبشر متین





مصنف کے بارے میں


...

مبشر متین

1993 - | Lahore


مبشر متین 1993 گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہوۓ۔2014 میں شعر گوئی شروع کی۔جامعہ دار العلوم الاسلامیہ اقبال ٹاؤن لاہور سے تجوید،قراتِ سبعہ عشرہ اور درسِ نظامی کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور اب اورینٹل کالج لاہور سے ایم فل اردو کر رہے ہیں۔




Comments