وصال کے دن گزر گئے ہیں جو رات دلکش تھی کٹ گئی ہے



وصال  کے دن گزر گئے ہیں جو رات دلکش تھی کٹ گئی ہے 
خیال اس کو بھی اب نہیں ہے مری توجّہ بھی ہٹ گئی ہے  

کوئی بھی پھول اب نہیں ہے کھلتا کوئی بھی بیل اب نہیں ہے چڑھتی 
اب اس کے چہرے کی یہ اداسی اسی کے آنگن میں بٹ گئی ہے 

کھڑے ہوۓ دونوں دیکھتے ہیں سکوت توڑیں تو کیسے توڑیں 
کہ میں بھی تھوڑا ڈرا ہوا ہوں  وہ اپنے اندر سمٹ گئی ہے 

سوار بیٹھے  ہیں راستے میں کسی کو جلدی نہیں ہے کوئی 
یہ بستی ہے عاشقوں کی بستی یہاں کی ہر شے الٹ گئی ہے 

وہ کون تھی اور کہاں سے آئی تھی اب نجانے کدھر گئی وہ  
جو جاتے جاتے بھی میرے دل کا ایک اور صفحہ پلٹ گئی ہے 

مبشر متین





مصنف کے بارے میں


...

مبشر متین

1993 - | Lahore


مبشر متین 1993 گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہوۓ۔2014 میں شعر گوئی شروع کی۔جامعہ دار العلوم الاسلامیہ اقبال ٹاؤن لاہور سے تجوید،قراتِ سبعہ عشرہ اور درسِ نظامی کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور اب اورینٹل کالج لاہور سے ایم فل اردو کر رہے ہیں۔




Comments