نہ جانے کس گھڑی یہ عین شین قاف ہوا



نہ جانے کس گھڑی یہ عین شین قاف ہوا 
بچھڑ کے اس سے  حقیقت کا انکشاف ہوا 

مرے لیے تو مری جان اتنا کافی ہے 
کہ میرا نام ترے نام سے مضاف ہوا 

یہاں کے لوگوں میں ویسے بھی فرقہ بندی ہے 
کوئی ہوا مرے حق میں کوئی خلاف ہوا 

تمام عمر بھی چاہو تو بھر نہیں سکتے 
تمہاری  بات  سے دل میں جو  ہے  شگاف ہوا 

ہمارا چاند نہ نکلا تو عید کے دن بھی 
نظر کا روزہ ہوا دل کا اعتکاف ہوا 

مبشر متین





مصنف کے بارے میں


...

مبشر متین

1993 - | Lahore


مبشر متین 1993 گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہوۓ۔2014 میں شعر گوئی شروع کی۔جامعہ دار العلوم الاسلامیہ اقبال ٹاؤن لاہور سے تجوید،قراتِ سبعہ عشرہ اور درسِ نظامی کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور اب اورینٹل کالج لاہور سے ایم فل اردو کر رہے ہیں۔




Comments