دل ہے تو محبّت ہو آنکھیں ہیں تو حیرت ہو



جذبوں سے تہی دامن یہ جسم کبھی مت ہو 
دل ہے تو محبّت ہو آنکھیں ہیں تو حیرت ہو 

اک آدھ ٹھکانہ ہو ہم ہجر کے ماروں کا 
اس شہر کی وسعت میں اک گوشہ عزلت ہو 

ہر روز بدلتی ہے خواہش دلِ وحشی کی 
کیسے ہو بھلا ممکن ہم کو تری عادت ہو 

ہر  بات  کے ویسے بھی دو پہلو تو ہوتے ہیں 
اب یہ بھی تو ممکن ہے ان کو بھی محبّت ہو 

ہم لوگ تو سانسوں کی گنتی کیے جاتے ہیں 
ہم کو تو برابر ہے جلوت ہو کہ خلوت ہو 
ٙ
کچھ گردشِ دوراں کی اب ہم سے نہیں بنتی   
کچھ دل بھی یہ کہتا ہے تھوڑی سی تو وحشت ہو 

 یہ  زخمِ  محبّت  ہے  کیا  رونا  اسے  پا  کر  
جب چارہ نہیں ممکن لب پر کیوں شکایت ہو

مبشر متین





مصنف کے بارے میں


...

مبشر متین

1993 - | Lahore


مبشر متین 1993 گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہوۓ۔2014 میں شعر گوئی شروع کی۔جامعہ دار العلوم الاسلامیہ اقبال ٹاؤن لاہور سے تجوید،قراتِ سبعہ عشرہ اور درسِ نظامی کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور اب اورینٹل کالج لاہور سے ایم فل اردو کر رہے ہیں۔




Comments