ازل سے لے کے برابر خدا کے ہاتھ میں ہے



ازل سے لے کے برابر خدا کے ہاتھ میں ہے 
یہ ہر کسی کا  مقدّر خدا  کے ہاتھ میں ہے 

تجھے بنایا تو تجھ کو مٹا بھی سکتا ہے  
غرور  تیرا  ستمگر  خدا  کے ہاتھ میں ہے 

نہیں ملا جو تجھے اس میں خیر ہوگی تری 
ترے سوال سے بہتر خدا  کے  ہاتھ  میں ہے 

اگر وہ  چاہے  تو  پردہ  بھی ڈال سکتا  ہے 
نظر جو آتا  ہے  منظر  خدا کے ہاتھ میں ہے 

صنم کدہ ہو یا کعبہ خدائی اس کی ہے 
کسی کا دل ہو کہ ہو سر خدا کے ہاتھ میں ہے 

کسی کسی کو ہی ملتی ہے سجدے کی توفیق 
ہو پھر یہ تھوڑی کہ وافر خدا کے ہاتھ میں ہے 

مبشر متین





مصنف کے بارے میں


...

مبشر متین

1993 - | Lahore


مبشر متین 1993 گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہوۓ۔2014 میں شعر گوئی شروع کی۔جامعہ دار العلوم الاسلامیہ اقبال ٹاؤن لاہور سے تجوید،قراتِ سبعہ عشرہ اور درسِ نظامی کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور اب اورینٹل کالج لاہور سے ایم فل اردو کر رہے ہیں۔




Comments