دیجیئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گے



 دیجیئے  رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گے 
پیارے یہ یاد رہے جان بھی دے بیٹھیں گے 
پائے دیوار کھڑے رہنے نہ دیجے بہتر 
اور ہٹ کر ترے کوچہ میں پرے بیٹھیں گے 
بے سر و پا ہیں کہاں جائیں گے جوں نقش قدم 
خاک پا ہم ترے قدموں ہی تلے بیٹھیں گے 
آتش عشق ترے سوختگاں جوں شعلہ 
جب تلک ہیں کوئی آرام لئے بیٹھیں گے 
روبرو اس کے اثرؔ آپ بہ ایں زندہ دلی 
کب تلک دل کے تئیں مارے ہوئے بیٹھیں گے





مصنف کے بارے میں


...

خواجہ میر اثر

1735 - 1794 |


اپنے بڑے بھائی خواجہ میر درد کے زیرِ اثر شاعری کی ،




Comments