بس ہو یارب یہ امتحان کہیں



بس ہو یارب یہ امتحان کہیں 
یا نکل جائے میری جان کہیں 

مثلِ عنقا یہ تیرے گم شدگاں 
نام کو ہیں نہیں نشان کہیں 

وائے غفلت کہ ایک ہی دم میں 
میں کہیں اور کاروان کہیں 

کیا کہوں اپنی میں پریشانی 
دل کہیں ، میں کہیں ہوں دھیان کہیں 

تھامتا ہوں اثر میں آہوں کو 
جل نہ جاوے یہ آسمان کہیں 





مصنف کے بارے میں


...

خواجہ میر اثر

1735 - 1794 |


اپنے بڑے بھائی خواجہ میر درد کے زیرِ اثر شاعری کی ،




Comments