آہ کیجے کہ نالہ سر کیجے



آہ کیجے کہ نالہ سر کیجے 
زندگی کس طرح بسر کیجے 

قصدِ ہمراہیِ شرر کیجے 
کھولیے آنکھ اور سفر کیجے 

شمع ساں زیست ہے گداز اپنی 
جب تلک ہوے چشمِ تر کیجے 

یاں سے اُڑیے بسانِ طائرِ رنگ 
بے پرو بالی بال و پر کیجے 

کون سنتا ہے یاں کسو کی بات 
بس اثر قصہ مختصر کیجے 





مصنف کے بارے میں


...

خواجہ میر اثر

1735 - 1794 |


اپنے بڑے بھائی خواجہ میر درد کے زیرِ اثر شاعری کی ،




Comments