تمہارے ہونٹوں سے جس کا گلا نکلتا ہے



تمہارے ہونٹوں سے جس کا گلا نکلتا ہے
وہ دن ہمارے لیے بھی برا نکلتا ہے

کبھی بتا نہیں پائے تمہارے اشک ہمیں
ہمارے پاس محبت کا کیا نکلتا ہے

سکوں کے واسطے کرتا ہے دل پسند جسے
وہ درد رات کا جاگا ہوا نکلتا ہے

میں چاہتا ہوں کریں شاعری نئے لڑکے
نئے ہوں لب تو سخن بھی نیا نکلتا ہے

یہ وصف صرف ترے نقش۔پا سے ہے منسوب
اگر کرید کے دیکھیں دیا نکلتا ہے

جہان۔خواب میں برسوں کی بھاگ دوڑ کے بعد
بھٹک کے آدمی مٹی میں جا نکلتا ہے

ہمارے شہر میں اس کا کوئی مقام نہیں
جو زندگی سے زیادہ بڑا نکلتا ہے

کہیں وجود نہیں کائنات میں اس کا
ہماری جیب سے جس کا پتہ نکلتا ہے

یہ پیڑ اس لیے ہم سے گریز کرتے ہیں
ہمارا زخم زیادہ ہرا نکلتا ہے

محیط ہوتی ہیں اس کی شبیں مہینوں پر
وہ دن جو دن میں کئی مرتبہ نکلتا ہے

کبیر اور بڑھے گا ہماری عمر کے ساتھ
بدن کے قرب سے جو فاصلہ نکلتا ہے






مصنف کے بارے میں


...

کبیر اطہر

دسمبر 1962 - | رحیم یار خان


محمد کبیر قلمی نام کبیر اطہر باکمال شاعر اور ادیب ہیں میٹرک گورنمنٹ اجمل باغ ہائی سکول صادق آباد ایف ایس سی گورنمنٹ خواجہ فرید ڈگری کالج رحیم یار خان ایم بی بی ایس کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور ایف سی پی ایس کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان کراچی ان آرتھوپیڈک سرجری حال نیشنل آرتھوپیڈک ہاسپیٹل کشمیر روڈ مہر آباد صادق آباد




Comments