تری اداسی مرے دکھ رقم نہیں ہیں دوست



تری اداسی مرے دکھ رقم نہیں ہیں دوست
ہمارے ہجر کے قصے میں ہم نہیں ہیں دوست

نظر کا دائرہ پیروں تلک ہی رہ جائے
ہم اپنے بوجھ سے اتنے بھی خم نہیں ہیں دوست

تمام دن مرا اشعار میں گزرتا ہے
اگرچہ گھر میں کبوتر بھی کم نہیں ہیں دوست

وہ دوسروں کے غم۔دل میں دخل دیتے ہیں
جو اپنی اپنی اداسی میں ضم نہیں ہیں دوست

تری خوشی کی ہمیں بھی خوشی تو ہے لیکن
ہماری آنکھیں مسرت سے نم نہیں ہیں دوست

ہم اپنے آپ کو جتنا بھی بے بہا سمجھیں
ترے جمال کی قیمت کے ہم نہیں ہیں دوست

طرح طرح کے الم ہیں مری کفالت میں
مجھ ایک شخص کو دو چار غم نہیں ہیں دوست

کئی بجھے ہوئے ملتے ہیں صبح سے پہلے
چراغ اتنے بھی ثابت قدم نہیں ہیں دوست

کبیر شاعری جس کا تقاضا کرتی ہے
ہم اس کے آدھے بھی اس کو بہم نہیں ہیں دوست






مصنف کے بارے میں


...

کبیر اطہر

دسمبر 1962 - | رحیم یار خان


محمد کبیر قلمی نام کبیر اطہر باکمال شاعر اور ادیب ہیں میٹرک گورنمنٹ اجمل باغ ہائی سکول صادق آباد ایف ایس سی گورنمنٹ خواجہ فرید ڈگری کالج رحیم یار خان ایم بی بی ایس کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور ایف سی پی ایس کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان کراچی ان آرتھوپیڈک سرجری حال نیشنل آرتھوپیڈک ہاسپیٹل کشمیر روڈ مہر آباد صادق آباد




Comments