یہ رنگ بے رنگ سارے منظر ہیں ایک جیسے



یہ رنگ بے رنگ سارے منظر ہیں ایک جیسے
یہ پهول سارے یہ سارے نشتر ہیں ایک جیسے

یہ اول اول تمام بکهرے ہوئے مناظر
نظر جما لو تو آخر آخر ہیں ایک جیسے

مری نگاہوں سے ہو کے جاتا ہے ان کا پانی
یہ سارے دریا سبهی سمندر ہیں ایک جیسے

میں کال جس کو ملاوں جا کر ملے اسی کو
یہ کیا کہ دنیا کے سارے نمبر ہیں ایک جیسے

یہ مسکراہٹ کا ایک پردا سا گر ہٹا کر
کبیر دیکهو تو سب کے اندر ہیں ایک جیسے
انعام کبیر






مصنف کے بارے میں


...

انعام کبیر

22 06 1997 - | گوجرانوالہ


انعام کبیر




Comments