کس لیے بیٹھا ہوں میں سب سے خفا کمرے میں



کس لیے بیٹھا ہوں میں سب سے خفا کمرے میں 

میں کوئی سمجھائے مجھے آ کے زرا کمرے میں
حبس اتنا تھا کے دیواریں گِرا دیں گھر کی 
پھر بھی آئی ہی نہیں تازہ ہوا کمرے میںمیں نے چاہا کہ وہ ہر وقت میرے سامنے ہو 
اک صدا آئی کہ آئینہ لگا کمرے میںماں کی تصویر سے جب میں نے کہا تنہا ہوں 
خود بخود پھیل گئی ایک دُعا کمرے میںتُو بھی آ جائے تو کیا خوب کٹے وقت اپنا 
ویسے موجود ہیں میں اور خدا کمرے میںشب ِفرقت کے اندھیرے سے اگر بچنا ہے
میں نہیں تو میری تعصویر لگا کمرے میں

پھر کہیں روشنی دکھتی ہے کواڑوں سےکبیر
رات بھر جلتا ہے خاموش دیا کمرے میںانعام کبیر





مصنف کے بارے میں


...

انعام کبیر

22 06 1997 - | گوجرانوالہ


انعام کبیر




Comments