وہ آتے جاتے اِدهر دیکهتا ذرا سا ہے



وہ آتے جاتے اِدهر دیکهتا ذرا سا ہے
نہیں ہے ربط مگر رابطہ ذرا سا ہے

یہ کوفیوں کی کہانی ہے میرے دوست مگر
یہاں پہ آپ کا بهی تذکرہ ذرا سا ہے

اب اس کو کاٹنے میں جانے کتنی عمر لگے
ہمارے درمیاں جو فاصلہ ذرا سا ہے

نگاہ ایک سڑک ہے اور اس کی منزل دل
اِدهر سے جاو تو یہ راستہ ذرا سا ہے

تجھے لگا کہ تُو کر لے گا صبر میرے بغیر
تو کر کے دیکھ ہی لے تجربہ ذرا سا ہے

ادهر کبیر بگولے ہوا کے تند و تیز
اور اس طرف یہ اکیلا دیا ذرا سا ہے

انعام کبیرؔ






مصنف کے بارے میں


...

انعام کبیر

22 06 1997 - | گوجرانوالہ


انعام کبیر




Comments