جس قدر بهی ہوا ہے خالی ہے



جس قدر بھی ہوا ہے خالی ہے

یہ جہاں کھوکھلا ہے خالی ہے

  تم مجهے جس مکاں کا پوچهتے ہے
وہ مرے دوست کا ہے خالی ہے

  قحط نے سارے گهر اجاڑ دیے
ایک جو بچ گیا ہے خالی ہے 

 اب جلانے کے کام آئے گا
شاخ پر گهونسلا ہے خالی ہے

  یعنی کم بولنے میں حکمت ہے
اور جو چیختا ہے خالی ہے
انعام کبیر





مصنف کے بارے میں


...

انعام کبیر

22 06 1997 - | گوجرانوالہ


انعام کبیر




Comments