مرا اک صدی سے تو یار ہے ،تیری خیر ہو



مرا اک صدی سے تو یار ہے ،تیری خیر ہو

تیرے راستے میں غبار ہے، تیری خیر ہو

تیرے زرد چہرے پہ سرخ آنکھیں بتاتی ہیں

تجھے وحشتوں کا خمار ہے، تیری خیر ہو

میں تو ایک شخص سے دوستی نہ نبھا سکا

تو تو سارے شہر کا یار ہے، تیری خیر ہو

ترے رخ کی ساری چمک نچوڑےگا دیکھیو!!!

یہ جنوں جو تجھ پہ سوار ہے، تیری خیر ہو

تجھے زندگی کی اذیتوں نے تھکا دیا

ابھی موت تجھ پہ ادھار ہے، تیری خیر ہو






مصنف کے بارے میں


...

حمزہ یعقوب

25-11-1999 - | Rohilanwali, Muzaffar Garh


حمزہ یعقوب کا تعلق مظفرگڑھ کے مضافاتی قصبے روہیلانوالی سے ہے۔ آج کل ایف ایس سی پری میڈیکل میں امتیازی نمبروں سے کامیابی کے بعد شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ٢٠١٥ میں شاعری کا آغاز کیا۔ اصنافِ سخن میں غزل سے زیادہ لگاؤ ہے۔ پسندیدہ شعراء میں غالب، میر تقی میر، احمد فراز، جون ایلیاء اور جمال احسانی شامل ہیں۔




Comments