قفس سے ایک بھی پنچھی رہا نہیں ہو گا



قفس سے ایک بھی پنچھی رہا نہیں ہو گا

زمیں پہ یعنی کوئی معجزہ نہیں ہو گا

میں اک صدی سے چلا آ رہا ہوں تیر انداز

مرا کوئی بھی نشانہ خطا نہیں ہو گا

اسے پتہ ہے کہ اولاد گالیاں دے گی

سو بوڑھا باپ بھی اب کھانستا نہیں ہو گا

غزل کے شعر ہی بدلے میں اب ملیں گے دوست؟؟؟

جنوں میں صبر کا کوئی صلہ نہیں ہو گا؟؟؟

حمزہ یعقوب






مصنف کے بارے میں


...

حمزہ یعقوب

25-11-1999 - | Rohilanwali, Muzaffar Garh


حمزہ یعقوب کا تعلق مظفرگڑھ کے مضافاتی قصبے روہیلانوالی سے ہے۔ آج کل ایف ایس سی پری میڈیکل میں امتیازی نمبروں سے کامیابی کے بعد شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ٢٠١٥ میں شاعری کا آغاز کیا۔ اصنافِ سخن میں غزل سے زیادہ لگاؤ ہے۔ پسندیدہ شعراء میں غالب، میر تقی میر، احمد فراز، جون ایلیاء اور جمال احسانی شامل ہیں۔




Comments