خمیدہ پیڑ کے پتے بنا دیے گئے ہیں



خمیدہ پیڑ کے پتے بنا دیے گئے ہیں

ہم ایسے تھے نہیں ایسے بنا دیے گئے ہیں

مرے خدا مجھے بتلا کہاں سے ‏آنا ہے؟

یہاں تو سینکڑوں رستے بنا دیے گئے ہیں

وہ اپنا حال سنانا بھی چاہیں تو کس کو؟

جو چند لوگ اکیلے بنا دیے گئے ہیں

یہ عام شہر نہیں ہے پریم نگری ہے

یہاں پہ کس لیے پنجرے بنا دیے گئے ہیں

حمزہ یعقوب






مصنف کے بارے میں


...

حمزہ یعقوب

25-11-1999 - | Rohilanwali, Muzaffar Garh


حمزہ یعقوب کا تعلق مظفرگڑھ کے مضافاتی قصبے روہیلانوالی سے ہے۔ آج کل ایف ایس سی پری میڈیکل میں امتیازی نمبروں سے کامیابی کے بعد شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ٢٠١٥ میں شاعری کا آغاز کیا۔ اصنافِ سخن میں غزل سے زیادہ لگاؤ ہے۔ پسندیدہ شعراء میں غالب، میر تقی میر، احمد فراز، جون ایلیاء اور جمال احسانی شامل ہیں۔




Comments