تھک گئے ہو؟ تَو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو



تھک گئے ہو؟ تَو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے واقعۃً چھوڑ کے جا سکتے ہو
ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا
تم پرندے ہو ' وطن چھوڑ کے جاسکتے ہو
جانے والے سے سوالات نہیں ہوتے ' مِیاں !
تم یہاں اپنا بدن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم سے باتوں میں کچھ اِس درجہ مگن ہوتا ہوں
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو
جانا چاہو تو کسی وقت بھی خود سے باہر
اپنے اندر کی گھٹن چھوڑ کے جا سکتے ہو





مصنف کے بارے میں


...

عمار اقبال

1988 - | لاہور


عمار اقبال کا شمار کراچی سے اُبھرنے والے گنے چنے نوجوان اُور قابلِ لحاظ شعراء میں ہوتا ہے جو اپنا لہجہ اُستوار کرنے کے بعد نظم کی طرف مائل بہ تخلیق ہُوئے تو اس میدان میں بھی سنجیدہ قاری نے ان کو سراہا اب آپ پرونیٹ لکھ رہے ہیں جو اردو شاعری میں قدرے ایک نئی صنفِ اظہار ہے اب نئے لکھنے والوں میں مقبول ہے اُور کئی لوگ پرونیٹ لکھ رہے ہیں عمار اقبال 1988کراچی میں پیدا ہُوئے اُور 2015 میں آپ کا پہلا مجموعہ پرندگی کے نام سے چھپ کر داد و تحسین حاصل کر چُکا ہے اور دوسرا شعری مجموعہ منجھ روپ کے نام سے زیر طبع ہے آئیے ان کے کلام سے ملتے ہیں




Comments