خشک چشمہ زری تری والا



غزل

خُشک چشمہ زری تری والا
سُرخ شیشہ ہری پری والا

کبک - پامالِ گردشِ رفتار
سرو - قامت کی چاکری والا

عکس آلُود آئنہ خانہ
اصل صُورت کی مخبری والا

ہمہ خانہ خراب ہم ترتیب
(ایک سے ایک بے گھری والا)

دِن کے خاکے میں بھر گیا ہر شام
دُھوپ کا رنگ شب گری والا

جُز معاشِ قوافی و مضمون
"کیا کرے فکر سرسری والا" 1

کام پکڑا ہے ڈھونڈ کر دِل نے
ایک دشمن سے ہمسری والا

برگ ہاے خزاں کی جُز بندی
کام یہ بھی ہے دفتری والا

برقِ تعبیر کے نشانے پر
خانۂ خواب انوری والا 2

راہوارِ خیال کا پامال
راستہ سب سکندری والا

آگ پانی ہَوا کی آمیزش
(کھوٹ مٹّی میں زرگری والا)

رُودبارِ غبار میں غرقاب
سنگِ رّہ سمت پروری والا
_________________
1: سراج اورنگ آبادی
2: "ہر بلائے کز آسمان آید
     خانۂ انوری تلاش کُند"





مصنف کے بارے میں


...

احمد فاروق

1969 - | عارف والا





Comments

  • noimage cimg

    Mirza Mueed Ahmad

    بہت اچھے بہت عمدہ غزل کہی