چومتا ہے سنہرے بازو کو



چومتا ہے سنہرے بازو کو
کھیل سا مل گیا ہے جگنو کو

حسن کو چوکڑی بھلا دی ہے
عشق سکھلایا جنگلی آہو کو

دور تک میں ہی میں ہوں منظر میں 
مت سنبھالو ڈھلکتے پلّو کو

سچ بتا میرے عشق سے پہلے
تو کہاں مانتی تھی جادو کو

میر و غالب، فراز ، تم اور میں 
کتنے لب چومتے ہیں اردو کو






Comments