سرخ کو زرد سے رخسار نے روکا ہوا ہے



سرخ کو زرد سے رخسار نے روکا ہوا ہے
کیسا غصہ ہے جسے پیار نے روکا ہوا ہے

میں چلوں گا تو مرے ساتھ چلے گی دنیا
میں رکا ہوں کہ مجھے یار روکا ہوا ہے

میں جہاں جاتا مرے ہاتھ پہ کھِلتا آکر
پھول کو پھول کی مہکار نے روکا ہوا ہے

آپ چپ ہوں گے تو سب راہ لگیں گے اپنی
بھیڑ کو آپ کی تکرار نے روکا ہوا ہے

یہ تو عفریت نگل جاتا مرے گاؤں کو
شہر کو شہر کی دیوار نے روکا ہوا ہے






Comments