نکلا ہوں شہرِ خواب میں تنہا سفر کو میں



نکلا ہوں شہرِ خواب میں تنہا سفر کو میں 
لیکن خبر نہیں کہ چلا ہوں کدھر کو میں 

بعد از شبِ سیاہ اتارا گیا اسے 
اچھے سے جانتا ہوں وجودِ سحر کو میں 

تو نے فگار کر دیا سینہ شبِ فراق 
اب کس طرح سے داد دوں تیرے ہنر کو میں

دونوں ہی منتظر ہیں کہ آتا ہے پہلے کون 
وہ مجھ کو دیکھتی ہے کھڑی رہ گزر کو میں 

اٹھی ہے جس جگہ سے صدائے برہنگی
چادر کو تانتے ہوئے نکلا اُدھر کو میں 

ہم دونوں ہم مزاج نہیں ہیں سو اس لئے 
گھر مجھ کو چھوڑتا ہے کبھی اپنے گھر کو میں 

تم نے ہی تو کہا تھا کہ آؤں قریب اور
اب کیوں کھٹک رہا ہوں تمھاری نظر کو میں

کیسے بتاؤں کس قدر رہتا ہوں بے قرار
پہنچاؤں کس طرح یہ خبر بے خبر کو میں

نشہ شراب میں بھی کہاں تجھ لبوں کے بعد 
منھ تک نہیں لگاتا کسی بے اثر کو میں 

اسامہ امیر





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments