سامنے آئینہ رکھا ہوا تھا



 سامنے آئینہ رکھا ہوا تھا 
بات کرنے کا حوصلہ ہوا تھا

میں نے دریا سے گفت گو کی تھی 
اور میں رمز آشنا ہوا تھا 

اُس گھڑی زندگی ملی تھی مجھے 
جس گھڑی تجھ سے رابطہ ہوا تھا 

زندگی اک سرائے خانہ ہے 
کسی درویش سے سنا ہوا تھا 

منتظر تھا کسی پری کا وہ 
باغ میں پھول جو کھلا ہوا تھا

میری ہمت کی داد دو کہ مرا 
پاگلوں سے مکالمہ ہوا تھا 

سب مگن تھے نگار خانے میں 
اپنا اپنا نشہ چڑھا ہوا تھا 

آنے والے سے یہ کہا میں نے 
جانے والے کا دل دکھا ہوا تھا





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments