زمیں پہ بیٹھ کے بے اختیار ڈھونڈتا ہوں



زمیں پہ بیٹھ کے بے اختیار ڈھونڈتا ہوں 
میں آسمان کا گرد و غبار ڈھونڈتا ہوں 

میں ایسے عالمِ وحشت میں ہوں کہ تنہائی 
پکارتی ہے مجھے میں پکار ڈھونڈتا ہوں 

اکیلا بیٹھ کے مسجد کے ایک کونے میں 
کمال کرتا ہوں پروردگار ڈھونڈتا ہوں 

مجھے پتا ہے کسی میں یہ شے نہیں موجود 
ہر ایک شخص میں کیوں اعتبار ڈھونڈتا ہوں

کہ آئینے میں کئی آئینے کئے تخلیق 
سو ایک چہرے میں چہرے ہزار ڈھونڈتا ہوں 

مرے لئے تو خطِ انتظار کھینچتی ہے 
ترے لئے میں خطِ انتظار ڈھونڈتا ہوں 







مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments