تم نے جو سنا ہوا ہے مجھ میں



تم نے جو سنا ہوا ہے مجھ میں 
انہونہ سا فیصلہ ہے مجھ میں 

تعبیر نہیں ملی تو وہ خواب 
چپکے سے چھپا گیا ہے مجھ میں 

خاموش نہیں ہوں میں اے دوست 
وہ شور مچا رہا ہے مجھ میں 

موسم بھی حسین ہوگیا ہے 
اک پھول بھی کھل گیا ہے مجھ میں 

تاثیر سے زندگی ملی ہے 
جو زخم نیا کھلا ہے مجھ میں 

اک شخص ڈرا ڈرا سبھی سے 
پوشاک بدل رہا ہے مجھ میں 

روشن رکھے ہے وہ ذات میری 
ہر وقت کوئی دیا ہے مجھ میں 

میں بات نہیں کروں گا کچھ دن 
جاسوس چھپا ہوا ہے مجھ میں 






مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments